میں نے اپنے دوست اور ساتھی محمود ہمدرد کو کیسے کھویا؟

Hamdard Quetta

Hafeez Ullah Sherani

ownessay.com

حفیظ اللہ شیرانی

یہ 8 اگست 2016 کی ایک گرم اور معمول کی صبح تھی۔ میں جب کوئٹہ میں اپنے دفتر ڈان نیوز کے بیورو آفس پہنچا تو تھوڑی تھکان سی محسوس ہو رہی تھی، سو عارضی آرام کے لیے سائیڈ روم میں بچھی جائے نماز پر لیٹ گیا۔

ابھی آنکھیں بند ہی نہیں کی تھیں کہ کراچی میں ہیڈ آفس سے فون آ گیا، “حفیظ، بلوچستان بار ایسوسی ایشین کے سربراہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے کیا؟” مجھے جھٹکا سا لگا اور پوچھا، “یہ کون کہہ رہا ہے؟” تو جواب ملا، “یار باقی چینلز پر ٹکرز چل رہے ہیں۔” میں نے خبر کی تصدیق کے لیے دو منٹ کا وقت مانگا۔

دوڑ کر ریموٹ اٹھایا اور چینلز تبدیل کرنے لگا، دفتر میں موجود دیگر ساتھیوں جن میں کیمرا مین اور انجینئر شامل تھے، ان سے کہا کہ وہ لوگ بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ میں نے موبائل نکالا اور سب سے پہلے داؤد خان کاسی کو فون کیا۔

“سر، شیرانی بات کر رہا ہوں۔ بلال کاسی صاحب خیریت سے ہیں؟”

“جی مجھے ابھی اطلاع ملی ہے کہ ان پر حملہ ہوا ہے، میں تھوڑی دیر میں ہسپتال کے لیے روانہ ہو رہا ہوں، وہاں پہنچ کر آپ سے رابطہ کرتا ہوں۔”

داؤد خان صاحب سے بات کرنے کے بعد ایدھی مرکز کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ بلال انور کاسی پر منوجان روڈ پر فائرنگ کی گئی۔ میں نے ہیڈ آفس فون کر کے اطلاع کی تصدیق کر دی اور خبر چلانے کو کہہ دیا۔ ابتدائی خبر دینے کے بعد تفصیل اور تصویر کے لیے میں، ڈرائیور ماما ایوب، کیمرا مین محمود ہمدرد اور انجینیئر عمران رانا ڈی ایس این جی میں ہسپتال کے لیے روانہ ہو گئے۔

سول ہسپتال ہمارے دفتر سے تقریباً دس منٹ کے فاصلے پر واقع ہے، راستے میں دیکھا کہ وکلاء جوق در جوق بھاگتے ہوئے ہسپتال پہنچ رہے تھے۔

ہم ہسپتال پہنچنے والے تھے کہ محمود نے کہا کہ، “یار گاڑی کو ہسپتال کے باہر پارک کر دیتے ہیں۔ وکلاء برادری غصے میں ہے اور اشتعال میں بھی آ سکتے ہیں۔ میں ویڈیو بنا کر جلدی نکل آتا ہوں۔ حفیظ آپ بھی زیادہ دیر نہیں لگانا۔” عمران بھائی نے بھی تقریباً اسی خدشے کا اظہار کیا اور یوں ڈی ایس این جی ہسپتال کے باہر کھڑی کر دی۔

گاڑی سے اترتے ہوئے میں نے مائیک اور محمود نے کیمرہ اٹھایا۔ ہسپتال کے اندر داخل ہوتے وقت ہم دونوں کے درمیان فاصلہ آ گیا تھا۔ وہ اندر کس راستے سے اور کیسے داخل ہوا، مجھے معلوم نہیں۔ خیر میں آگے بڑھتا رہا اور راستے میں کئی جاننے والے وکلاء سے ملتا گیا اور بالآخر بلوچستان بار کے سابق صدر باز محمد کاکڑ تک پہنچ گیا جو تمام وکلاء کے درمیان کھڑے تھے۔ ان کے چہرے پر دکھ اور غم کے آثار دور سے عیاں تھے۔

ان کے ہاتھ میں سگریٹ تھا، میں نے سلام کرتے ہوئے کہا کہ، “سر، یہ سب کیسے ہوا؟” انہوں نے انتہائی افسردہ لہجے میں بتایا کہ، “یہ ہوتا ہے، فی الحال تو کچھ نہیں کہہ سکتے، خیر۔۔۔۔” شاید وہ بہت کچھ کہنا چاہتے تھے مگر کچھ کہہ نہ سکے۔

میں نے دیکھا کہ داؤد کاسی صاحب بھی ہسپتال پہنچ چکے تھے، ان کے ہمراہ بیرسٹر عدنان کاسی، گل زرین کاسی، اور کاسی قبیلے کے چند دیگر افراد اور وکلاء بھی تھے۔

بحثیتِ رپورٹر میں نے آگے جانے کی اجازت لی تاکہ مردہ خانے میں بلال انور کاسی کے پوسٹ مارٹم کی تفصیلات حاصل کر سکوں، چند قدم آگے گیا تو دور سے دیکھا کہ محمود بھرپور انداز سے اپنے کام میں مصروف تھا۔ وہ ہاتھ میں کیمرہ لیے مردہ خانے کے دروازے کے باہر موجود سیڑھیوں پر کھڑا تھا۔ محمود کا چہرہ مردہ خانے کی طرف تھا، بلال انور کاسی صاحب کی نعش مردہ خانے سے نکال کر ایمبولینس اور پھر گھر کی طرف لے جائی جانے والی تھی۔

یہ سب کچھ سیکنڈوں میں ہو رہا تھا۔ جس جگہ پر باز محمد کاکڑ و باقی وکلاء کھڑے تھے، وہاں سے مردہ خانہ تقریباً ستر قدم کے فاصلے پر ہے۔ میں باز محمد کاکڑ سے ملنے کے بعد آگے کی طرف روانہ ہو گیا۔

ابھی مردہ خانے کے دروازے پر پہنچنے والا تھا کہ ڈاکٹر کو نکلتے دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ بلال صاحب کو کتنی گولیاں لگی ہیں تو جواب ملا “نو گولیاں، دو سر پر اور سات سینے۔۔۔” جملہ ابھی مکمل ہی نہیں ہوا تھا کہ ایک انتہائی زوردار آواز سنائی دی۔ میں ایک دم بیٹھ گیا، چند سیکنڈ کے لیے ہر طرف خاموشی طاری ہو گئی۔ اس دہشت زدہ خاموشی کو پولیس اہلکاروں کی ہوائی فائرنگ اور لوگوں کی چیخوں اور زخمیوں کی چیخ و پکار نے توڑا۔

مجھے لگا کہ جیسے او پی ڈی کے پچھلے دروازے پر وکلاء کے اجتماع کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میں او پی ڈی کی طرف بھاگنے لگا، اور وہاں پہنچ کر دیکھا تو میرا ڈر درست ثابت ہوا۔

میرے آنسو بہنے لگے، چند سیکنڈ پہلے تو سب وکلاء یکجا تھے، ٹھیک تھے، ان کی غمزدہ روحیں اپنے جسموں میں مقید تھیں۔ مگر اب سب کچھ تبدیل ہو چکا تھا، انسانی اعضاء، جلے ہوئے بے جان اجسام، ایک دوسرے کے اوپر پڑے تھے۔ جو زخمی تھے ان کے کالے کوٹ جل چکے تھے، وکلاء کی خون آلود نیم برہنہ لاشیں ہر طرف بکھری پڑی تھیں۔

میری کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں۔ ابھی تک ہیڈ آفس کو بھی ہسپتال کی صورتحال کے بارے میں اطلاع نہیں دی تھی۔ وکلاء کی لاشوں کے پاس سے گزرتا ہوا تھوڑا آگے گیا تو کسی نے آواز دی، “حفیظ، حفیظ۔”

قریب آیا تو دیکھا کہ ایڈووکیٹ ولی خان مندوخیل زخموں سے چور ہیں۔ میرے آنسو دیکھ کر ولی خان نے کہا، “حفیظ رونا نہیں پلیز، میری ایک بات دھیان سے سننا، اگر مجھے کچھ ہوا تو میری والدہ اور میرے بڑے بھائی کو بتانا کہ میری موت پر نہ روئیں۔” یہ سن کر میرا دل ٹوٹ گیا لیکن میں نے انہیں تسلی دینے کی اپنی سی کوشش کی، “نہیں ایسا نہیں بولتے، آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔” میں نے بلند آواز میں مدد مدد پکارتے ہوئے ولی خان کو کندھا دیا اوراٹھانے کی کوشش کی۔ وہاں دو تین افراد آئے اور ولی خان کو آپریشن تھیٹر تک پہنچایا۔

آپریشن تھیٹر سے نکل کر میری زبان پر محمود کا نام آیا محمود، محمود، محمود۔ اب اندازہ ہونے لگا کہ ہسپتال میں ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے، لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ میرے ساتھ محمود بھی تھا، جو بھی سامنے آ رہا تھا اس سے میں محمود کا پوچھ رہا تھا مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں ہے اور کس حالت میں ہے۔

چند لوگوں نے تو جھوٹی تسلی بھی دی کہ، “ادھر تو دیکھا، کدھر گیا، وہ ٹھیک تو تھا۔” اتنے میں ہمارے کوئٹہ بیورو کے چیف سید علی شاہ صاحب نے فون کیا، میں نے ان سے صرف اتنا کہا کہ، “سر محمود نہیں ہے۔” مزید بات نہ ہوئی۔

شعبہ حادثات گیا، محمود نہیں تھا، مردہ خانے پہنچا، محمود نہیں۔ میڈیا کے دوستوں کے پاس آیا محمود دکھائی نہ دیا۔ اُدھر ایک دو ٹی وی چینلز پر آج نیوز کے کیمرہ مین شہزاد خان اور ڈان نیوز کے محمود کی ہلاکت کی خبر چلا دی گئی تھی.

محمود کی تلاش میں ایک گھنٹہ بیت گیا، لیکن ان کا کچھ پتہ نہ چلا، کسی نے کہا کہ انہیں سی ایم ایچ کوئٹہ شفٹ کر دیا گیا ہے۔ سید علی شاہ صاحب پہلے وہی پہنچ چکے تھے مگر وہ سی ایم ایچ میں بھی نہیں تھا۔

نہ چاہتے ہوئے ایک بار پھر مردہ خانے کی طرف بڑھا۔ ہلاکتوں میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا تھا، مردہ خانہ بھرا پڑا تھا، دل پر پتھر رکھ کر ہر نعش سے کفن اٹھا کر اور غور سے دیکھنے لگا کہ شاید محمود بھی شہدا میں ہو۔

دس سے گیارہ جوانوں کو دیکھا، بارہویں کے چہرے سے کفن اٹھایا تو جانا پہچانا چہرہ نظر آیا۔ خود کو تسلی دی کہ نہیں یہ ایڈوکیٹ قیصر نہیں ہیں، اور اگے چل پڑا، محمود کو ڈھونڈنے لگا۔

محمود نہیں ملا، مردہ خانے سے نکلتے ہی یاد آیا کہ میرے چاچا قاضی اختر شاہ شیرانی کا فون آیا تھا کہ ان کے بھانجے قیصر خان ایڈووکیٹ کی کال اٹینڈ نہیں ہو رہی ہے کہاں ہے، واپس موڑ کر دوبارہ کفن اٹھایا، سر سے پاؤں تک دیکھا اب کے بار یقین آگیا کہ قیصر خان بھی ہمارے درمیان نہیں رہے۔

انہوں نے بے حد محنت و مشقت کے بعد گومل یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی اور بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے تھے مگر وہ خواب یقیناً وقت سے پہلے بکھر گئے۔ چاچو کو فون کیا کہ “بھانجا قیصر خان شدید زخمی ہے آپ ہسپتال پہنچیں۔” اس کے بعد چاچا والے کیسے آئے، کون کون آیا اور بھانجے کی نعش آبائی گاؤں کیسے لے گئے، کچھ پتہ نہیں۔

میں ایک بار پھر محمود کی تلاش میں جت گیا۔ تقریباً تین گھنٹے گزرنے کے بعد جب کچھ سراغ نہ ملا، تو آنکھوں میں آنسو ختم ہونے لگے، زبان اور حلق کچھ ایسے خشک ہو گئے کہ جیسے ایک سال کا روزہ دار ہوں۔ ہم آہستہ آہستہ مایوس ہونے لگے، کہ نہ زخمیوں میں ہے نہ شہداء میں ہے، تو پھر کہاں ہے؟

پھر دوسرے کیمرہ مین ساتھی کی وہ بات کہ “محمود زخمی تھا میں نے وارڈ میں شفٹ کیا”، اور جمال ترکئی کی وہ بات یاد آتی کہ “محمود شہید ہو چکا ہے، میں نے ویڈیو بنائی ہے” یاد آتی۔

خود کو یہ دلاسا دیتے کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، چار گھنٹے گزر گئے۔ میں تھکا ہارا مایوس ہو کر دفتر پہنچا۔ یہاں موبائیل نے دوبارہ کام کرنا شروع کیا تو میری خیریت دریافت کرنے والے دوست احباب اور خیرخواہوں کی کالز کا تانتا بندھ گیا، “ٹی وی پر ٹکر چل رہا ہے کہ حفیظ اللہ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔” بعد میں پتہ چلا کہ وہ ہمارے شہر ژوب کے انتہائی قابل نوجوان وکیل حفیظ اللہ مندوخیل تھے۔

میں دفتر میں مختلف چینلز کا جائزہ لے رہا تھا کہ سید علی شاہ صاحب کا فون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ محمود سی ایم ایچ میں ہیں اور شدید زخمی ہیں۔ جلدی یہاں پہنچو، خون کی چار بوتلیں درکار ہیں۔

کینٹ کے گیٹ پر انٹری کیے بغیر اندر چلا گیا، کسی کی نظر مجھ پر نہیں لگی تھی یا میرے خون آلود سفید کپڑے دیکھ کر شاید زخمی کا گمان کر کے روکا نہیں گیا ہوگا۔ راستے میں کسی انجان شخص نے موٹرسائکل پر سی ایم ایچ پہنچا دیا۔

وارڈ تک پہنچا تو ڈیوٹی پر معمور اہلکاروں نے روک لیا، بہت منت سماجت کی، چیخ چیخ کر رو رہا تھا کہ میرا بھائی شدید زخمی ہے، اس کے پاس خون دینے کے لیے جا رہا ہوں، پھر بھی اجازت نہیں دی گئی۔ ٓ بالآخر تقریباً آدھے گھنٹے بعد آپرییشن تھیٹر کے دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا، اب میرے سامنے ایڈووکیٹ رؤف عطا صاحب اسٹریچر پر زخمی حالت میں لیٹے تھے۔

میں ان کو تسلی دے رہا تھا کہ اتنے میں آپریشن تھیٹر کے ایک انچارج باہر نکلے اور سب لوگوں سے چلے جانے کو کہا۔ باہر آیا تو سید علی شاہ صاحب اور محمود کے دو دوست کہنے لگے کہ محمود کے لیے خون کی چار بوتلوں کا بندوبست کر لیا گیا ہے۔

اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ محمود اور باقی شدید زخمیوں کو ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی منتقل کر دیا جائے گا۔ شاہ صاحب نے بتایا کہ وہ بھی محمود کے ساتھ جا رہے ہیں۔ اس وقت 2 بج کر 53 منٹ ہو رہے تھے۔

ہیڈ آفس سے فون آیا کہ “حفیظ کیمرے کے سامنے آئیے۔” میں نے کہا مجھ سے بات نہیں ہو پائے گی۔” ڈیسک والوں نے کہا “حفیظ، آپ سے رپورٹنگ نہیں کروا رہے، بس جو کچھ دیکھا اس کا آنکھوں دیکھا حال بیان کریں، خیر ہے جس طرح بھی ہو آپ کمیرے کے سامنے آئیں۔”

سی ایم ایچ میں کیمرہ اور ڈی ایس این جی کی اجازت نہیں تھی، تین بجے لائیو آنا ضروری تھا۔ میں نے خود ڈی ایس این جی چلائی اور کینٹ سے باہر نکال کر گرلز کالج کے ساتھ والی سڑک پر ہم لائیو جانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔


میں کیمرے کے سامنے تھا، نیوز کاسٹر نے ہیڈ لائن پڑھنے کے بعد ابھی یہ کہا ہی تھا کہ، “مزید تفصیلات کے لیے بات کرتے ہیں ہمارے نمائندے حفیظ للہ شیرانی سے” تو ہمارے انجینئر عمران رانا نے قریب آ کر کہا کہ “حفیظ، محمود شہید ہو گئے ہیں۔” وہ رو رہے تھے، ساتھ یہ بھی کہا کہ بیورو چیف نے یہ خبر ٹی وی پر آن ایئر کرنے سے منع کیا ہے۔


میں کیمرے کے سامنے کھڑا تھا، اینکر انتظار کر رہی تھیں کہ میں انہیں تفصیلات سے آگاہ کروں گا، میں چند سیکنڈ تک خاموشی سے روتا رہا اور پھر خودکش دھماکے کی تفصیلات بتانے لگا۔

نیوز کاسٹر کا آخری سوال تھا کہ، “حفیظ آپ کے ساتھی اور ڈان کے کیمرہ مین محمود بھی شدید زخمی ہوئے ہیں، ان کی حالت کیسی ہے؟” یہ جملہ میرے لیے قیامتِ صغریٰ کے برابر تھا اور آج تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔

میں نے خود پر بہت قابو پاتے ہوئے کہا کہ “ڈاکٹرز نے صرف اتنا کہا ہے کہ محمود کے لیے دعا کریں” اور بس۔

dawn

Share