شریف برادران کے خلاف زیرالتوا نیب انکوائریز

Sharif Brothers

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف 16 زیر التوا انکوائریوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے ادارے کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کے دوران افسران کو ہدایات جاری کیں کہ شریف برادران کے خلاف زیرالتوا انکوائریز جلد مکمل کی جائیں۔

واضح رہے کہ نیب میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف 14 جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے خلاف 2 انکوائریز زیر التوا ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں غیرقانونی تقرریوں، رائے ونڈ روڈ کی تعمیر اور لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق انکوائریز زیر التوا ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف رائے ونڈ روڈ اور نواں کوٹ میں پلاٹ نوازنے سے متعلق انکوائری زیر التوا ہے۔

ایل ڈی اے کے پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف 1 جبکہ نواز شریف کے خلاف 12 انکوائریز زیرالتوا ہیں۔

واضح رہے کہ شریف برادران کے خلاف انکوائریز کا آغاز جلاوطنی اختیار کرنے سے قبل کیا گیا تاہم ان کے جدہ جانے کے بعد یہ انکوائریاں بند کردی گئیں، جنہیں 12 اپریل 2006 کو دوبارہ شروع کیا گیا۔

نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نواز شریف کو سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد نیب کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ عدالت کی جانب سے مقررہ وقت کے اندر شریف خاندان کے خلاف اسلام آباد / راولپنڈی کی احتساب عدالت میں 4 مزید ریفرنس دائر کیے جائیں۔

شریف برادران کے خلاف نیب انکوائریز

10 جون 2000

شہبازشریف

میاں عطاء اللہ کی موضع نواں کوٹ میں دس کنال اراضی تھی، اراضی ایل ڈی اے نے حاصل کرلی اور قانون کے مطابق عطاء اللہ کو ایک 10 مرلے کا پلاٹ دیا جانا تھا مگر میاں شہباز شریف نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے میاں عطاء اللہ کو 12 پلاٹ عطا کردیے جس کی شکایت پر الاٹ ہونے والے تمام پلاٹوں کی الاٹمنٹ کو منسوخ کردیا گیا جبکہ نیب ریکارڈ اور اس سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہی ہے۔

28 مارچ 2000

میاں نواز شریف

میاں نوازشریف نے خواجہ رضوان محمود کے ساتھ مل کر 2 کنال کے کمرشل پلاٹ کو غیر قانونی طور پیٹرول پمپ کے لیے الاٹ کردیا۔

نیب 21 سال پرانی اس الاٹمنٹ میں دیے جانے والے پلاٹ کی موجودہ حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے اور ثبوتوں کاجائزہ لیا جارہا ہے۔

7 اپریل 2000

میاں نواز شریف

نواز شریف، محمد خان اور قمر زمان کے خلاف ہونے والی انکوائری میں ایل ڈی اے کے پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور نیب پلاٹوں کی موجودہ حیثیت سے متعلق انکوائری کر رہا ہے۔

29 جنوری 2001

میاں نوازشریف

میاں نواز شریف کے خلاف سائرہ کوکب کو بلاک ایل میں 2 کنال کے پلاٹ نمبر 38 کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی انکوائری کی جارہی ہے۔

ملزمہ سائرہ کوکب اور ان کے شوہر طاہر یوسف نے 11 اکتوبر 2011 کو 58 لاکھ روپے رضاکارانہ واپسی کے ذریعے جمع کرادیے تاہم نیب لاہور کیس ریکارڈ پر کارروائی کررہا ہے۔

10 فروری 2000

میاں نواز شریف

میاں نواز شریف، مظہر رسول اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ منظور ملک کے خلاف انکوائری زیرالتوا ہے جس میں نواز شریف پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 12 لاکھ 30 ہزار روپے مالیت کا پلاٹ صرف 96 ہزار روپے میں الاٹ کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 11 لاکھ 34 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔

نیب، لاہور پلاٹ کی موجودہ قیمت کے بارے میں انکوائری کررہی ہے۔

10 فروری 2000

میاں نواز شریف

میاں نواز شریف، طاہر یوسف اور قمرزمان کے خلاف اے بلاک میں پلاٹ نمبر 38 اور ایل بلاک میں دو کنال کے پلاٹ کی الاٹمنٹ کی انکوائری زیرالتوا ہے، نوازشریف نے ملزم طاہر یوسف کو دونوں پلاٹ غیرقانونی طور پر الاٹ کیے۔

ملزم قیمت میں فرق کے 28 لاکھ روپے ادا کرچکا ہے تاہم نیب ریکارڈ کا جائزہ لے رہا ہے اور پلاٹ کی مارکیٹ پرائس کے حوالے سے انکوائری کی جارہی ہے۔

29 جنوری 2001

میاں نواز شریف

میاں نواز شریف نے جوہر ٹاؤن کے بلاک G-3 میں پلاٹ نمبر 244 رشید احمد خان کو غیر قانونی طور پر الاٹ کیا۔

نوازشریف نے 10 مارچ 1990 کو ایل ڈی اے کو مراسلہ لکھا جس پر ایل ڈی اے نے 4 اپریل 1990 کو پلاٹ الاٹ کردیا۔

رشیداحمد خان نے یکم اپریل 2002 اور 13 ستمبر 2002 کو 2 لاکھ 26 ہزار روپے، 2 لاکھ 26 ہزار روپے کی 2 اقساط جمع کرادیں جبکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 10 لاکھ 89 ہزار روپے لگایا گیا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق قومی خزانے کو پہنچنے والا نقصان 9 لاکھ 4 ہزار روپے ہے تاہم نیب لاہور کیس ریکارڈ کی انکوائری کررہا ہے اور پلاٹ کے مارکیٹ ریٹ کا پتہ لگایا جارہا ہے۔

10 فروری 2000

میاں نوازشریف، محمد سرور

نیب لاہور ایل ڈی اے کے پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق انکوائری کررہے، جس میں مارکیٹ پرائس میں فرق کے مطابق انکوائری کی جارہی ہے۔

18 جون 2001

میاں نواز شریف

میاں نواز شریف کے خلاف نیو گارڈن ٹاؤن کے ابوبکر بلاک کے پلاٹ نمبر 131 کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی انکوائری زیرالتوا ہے۔ نوازشریف کے 7 ستمبر 1989 کے ایل ڈی اے کو مراسلے کے تحت پلاٹ روبینہ حسن کو الاٹ کیا گیا، نیب لاہور پلاٹ کی مارکیٹ پرائس کا اندازہ لگارہی ہے۔

21 فروری 2000

میاں نوازشریف

میاں نوازشریف، علی عارف اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ منظور ملک کے خلاف ایل ڈی اے پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی نیب میں انکوائری زیرالتوا ہے جبکہ نیب پلاٹ کی موجودہ حیثیت کاجائزہ لے رہا ہے۔

21 فروری 2000

میاں نواز شریف

میاں نوازشریف، فاطمہ افضال اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ منظور ملک کے خلاف 1 کنال کے 2 پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی انکوائری زیرالتوا ہے جبکہ نیب لاہور پلاٹ کی موجودہ حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے۔

17 اپریل 2000

میاں نوازشریف

میاں نواز شریف، محمد انعام خان اور قمر زمان کے خلاف محمد انعام خان کو 2 کنال کے پلاٹ کی نیلامی کے بغیر الاٹمنٹ کی انکوائری زیرالتوا ہے جس میں ایل ڈی اے کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تاہم نیب لاہور پلاٹ کی موجودہ حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے۔

17 اپریل 2000

میاں نواز شریف

میاں نواز شریف، قریش خان اور قمر زمان کے خلاف علامہ اقبال ٹاؤن کے 2 کنال کے پلاٹ کی نیلامی کے بغیرالاٹمنٹ کی انکوائری زیرالتوا ہے، پلاٹ کی الاٹمنٹ کے دوران ایل ڈی اے قوانین کے خلاف کی گئی۔

18 دسمبر 1999

نواز شریف

میاں نوازشریف کے خلاف ایف آئی اے میں مبینہ طور پر غیرقانونی بھرتیوں کی انکوائری بھی زیرالتوا ہے۔

میاں نوازشریف کے خلاف میجرجنرل ریٹائرڈ ایم ایچ انصاری نے 22 مارچ 1999 کو نیب سے رجوع کیا۔

17 اپریل 2000

شہباز شریف، نواز شریف

نوازشریف اور شہباز شریف کے خلاف رائے ونڈ سے جاتی امراء پیلس تک سڑک کی غیرقانونی تعمیر کی انکوائری زیرالتوا ہے، جس سے شریف برادران نے قومی خزانے کو مبینہ طور پر 12 کروڑ 56 لاکھ 64 ہزار روپے کا نقصان پہنچایا۔

dawn

Share