کسی کی ازدواجی زندگی کو نہ کھولیں: جسٹس عمر بندیال

SUPREME COURT

اسلام آباد:  چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان کی نا اہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت کی، حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی کیلئے سب سے زیادہ فنڈز عطیات کی شکل میں 40 کروڑ 2013 میں ملے، دیکھنا یہ ہے کہ فنڈ ریزنگ قانون کے مطابق ہے یا نہیں، اگرایس اے آر اے کا ریکارڈ اور 195 کارپوریشنز نا کافی ہیں تو معاملہ سکروٹنی کیلئے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیں، اس پر رضا مند ہیں، استدعا ہے کہ سکروٹنی کیلئے ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ غیرمشروط طور پر بھیجا جائے، اگر عدالت مطمئن نہیں تو معاملے کا تعین کروا لے، سیاسی جماعتوں کو فنڈز کے ذرائع بتانے چاہئیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اکاؤنٹس کی تفصیل سے شفافیت ظاہر ہونی چاہئے، کروڑوں کی رقم جیب میں نہیں اکاؤنٹس میں گئی، الیکشن کمیشن کو اپنے فارم میں پوچھنا چاہیے کہ آمدن کے ذرائع کیا ہیں، الیکشن کمیشن کے فارم میں بیرون ملک سے فنڈنگ کا الگ کالم ہونا چاہیے، اس سے ممنوعہ فنڈنگ کا پتہ چلانے میں مدد ملے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ فلیٹ کی ملکیت کمپنی کے نام رکھی جاتی ہے مگر اصل مالک اثاثہ رکھنے والا ہوتا ہے، ہماری دلچسپی یہ ہے کہ کمپنی کا اصل مالک کون ہے؟ اکرم شیخ سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مطابق تمام انتظامات عمران خان کی ہدایت سے کنٹرول ہوتے تھے، اکرم شیخ نے کہا کہ فروخت سے ملنے والے چھ لاکھ 90 ہزار پاؤنڈز نیازی سروسز لمیٹڈ کے اکاؤنٹ میں آئے۔ اسی اکاؤنٹ سے جمائما کو 5 لاکھ 62 ہزار پاؤنڈ قرض ادا کیے گئے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئین میں صادق و امین کی نہیں ایماندار اور امین کی بات ہے، صادق اور امین کا لفظ بہت محترم شخصیات کیلئے استعمال ہوتا ہے، کوئی بھی شخص حضوراکرم ؐ کی طرح صادق اور امین نہیں ہو سکتا، دشمن اور کفار بھی انہیں صادق اور امین تسلیم کرتے تھے۔ انہوں نے درخواستگزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ صاحب! آپ ٹیکس گوشواروں کو بہت اہمیت دے رہے ہیں، عوام کو ڈرا کر ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جا سکتا، لوگوں کا ٹیکس کے نظام پر اعتماد بنانا ہوگا، ٹیکس ادا کرنے والوں کو اہمیت دی جانی چاہیے، چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس چھپانے اور چوری کرنے کے نتائج الگ ہیں، اکرم شیخ کی جانب سے عمران خان پر لکھی کتاب کے حوالے پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کتاب کو نہیں دیکھنا، کتاب کے مصدقہ ہونے کی بات ہوگی، ہم نے تو دستیاب شواہد کو دیکھنا ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں جمائما سے لیے قرض کا ذکر نہیں کیا، انہوں نے کاغذات نامزدگی میں واجبات اور اثاثوں دونوں کا ذکر کرنا تھا، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اگر کوئی پارلیمنٹیرین بھائی سے قرض لے کر ظاہر نہ کرے تو آرٹیکل 62 لاگو ہوتا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم اکاؤنٹ یا ٹیکس اتھارٹی نہیں ہیں، کسی کی ازدواجی زندگی کو نہ کھولیں، اگر ذرائع بتا رہے ہیں تو زیادہ آگے نہ جائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بے نامی لفظ لکھ دینے سے بنی گالہ اراضی بے نامی نہیں ہو جائے گی، روزانہ رات گئے تک فائلوں کو کھنگال رہے ہیں، ہم کھلے دماغ سے اس کیس کو سن رہے ہیں، عمران خان نے بنی گالہ اراضی جمائما کے نام خریدی، اس کی ادائیگی کیلئے عبوری قرضہ لیا گیا، میاں بیوی کے درمیان لین دین کے معاملات مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت ستمبر تک ملتوی کر دی۔

Dunya-News

Share