ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوئی تو ضبط ہو جائے گی، نااہلی کیسے کریں؟

supreme_court_islamabad

اسلام آباد:  سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے آج بھی دلائل دیئے، اکرم شیخ نے اپنے دلائل میں کہا کہ فنڈ ریزنگ کا ریکارڈ اور عمران خان کا بیان حلفی عدالت کے ساتھ مذاق ہے، جعلی دستاویزات پر لوگوں کیخلاف مقدمات درج ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہم دیکھ رہے کہ آپ چاہتے ہیں کسی کو نااہل قرار دے دیا جائے، اگر جعلی دستاویزات پیش کی گئیں تو جعلسازی کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا ہمارے مطابق فنڈ ریزنگ 8 لاکھ ڈالرز سے زیادہ ہے، یہ تین لاکھ ڈالرز کدھر چلے گئے؟ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اس کیلئے ہمیں اکاؤنٹنٹ چاہیے ہو گا، آپ کو بہت اعتماد ہے ہماری اکاؤنٹنگ پر؟ اکرم شیخ نے جواب دیا ہمیں عدالت کی اکاؤنٹنگ پر اعتماد ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اتنی گہری اکاؤنٹنگ کو ہم کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ اکرم شیخ نے کہا کہ ان کی استدعا ہے کہ فنڈنگ کے معاملے کی تحقیقات کا وفاقی حکومت کو کہا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا آپ نے کہا تھا کہ ڈکلیئر کریں عمران خان صادق اور امین نہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ کسی بھی رکن کی غلط بیانی پر آرٹیکل 62 کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ آرٹیکل 184/3 کا دائرہ کار کیا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کیا کسی رکن اسمبلی کے پاس کرایہ ادا کرنے کا گواہ نہ ہو تو وہ نا اہل ہے؟

Dunya-News

Share