!…….مینگو فیسٹیول

ijaz-chohan

حکو مت اور ایگری کلچر یونیورسٹی کے تعاون سے منعقدہ عظیم الشان مینگو فیسٹیول کا مقصد پاکستانی آم کو دنیا بھر میں متعارف کرو انا ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کار اس جانب متوجہ ہوسکیں اور خوش ذائقہ ملتانی آموں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کرکے کثیر زر مبادلہ حاصل کیا جاسکے۔ مجموعی طور پر پاکستان میں اس وقت چارلاکھ بیس ہزار ایکڑ رقبے پر اعلیٰ معیار اور بہترین لذت کے حامل آم کی تقریباً دو سو سے زائد اقسام کاشت کی جارہی ہے، جبکہ ان میں سے بیس اقسام کے آم تجارتی مقاصد کے لئے کاشت کئے جاتے ہیں تاکہ انہیں برآمد کر کے زرمبادلہ کمایا جاسکے۔یہاں پیدا ہونے والے آم کی مشہور اقسام چونسہ، دوسہری، لنگڑا، انور رٹول، سندھڑی، فجری، سرولی اور دیسی ہیں۔ پاکستان میں آم کی مجموعی پیداوار 20 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ہے، اگرچہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں آم کی پیداوار ہوتی ہے، مگرملکی پیداوار کا ساٹھ فیصد حصہ پنجاب سے حاصل ہوتا ہے، جہاں گزشتہ سال کے دوران 13لاکھ میٹرک ٹن سے زائد آم کی پیداوار ہوئی تھی۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستانی آم نے مشرق وسطیٰ، یورپ، امریکہ، جاپان، اردن، موریشیس، کویت، مسقط، بحرین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، ناروے، ہولینڈ، بیلجیئم، سنگا پور، ملائیشیا، ہانگ کانگ اور جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں کامیابی کے ساتھ رسائی حاصل کی ہے جبکہ اس سے قبل پاکستانی آم کی ایکسپورٹ زیادہ تر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک کی جاتی تھی، جو کہ تقریباً 60سے 70ہزارمیٹرک ٹن تھی۔ پاکستان کے علاوہ آم کی کاشت انڈونیشیا، تھائی لینڈ، سویڈن، ڈنمارک، فلپائن، ملائیشیا، سری لنکا، مصر، امریکہ، اسرائیل، فلوریڈا، برازیل اور ویسٹ انڈیز میں بھی ہوتی ہے مگر پاکستانی آم کے بارے میں دنیا بھر کے زرعی سائنس دانوں کی متفقہ رائے ہے کہ اس سے زیادہ میٹھا اور خوش ذائقہ آم کرہ ارض پر کہیں اور پیدا نہیں ہوتا۔ دیگر ممالک میں پیدا ہونیوالے آموں کے مقابلے میں پاکستانی آم اور پاکستانی آموں میں ملتانی آم اپنے ذائقے، تاثیر، رنگ اور صحت بخش خوبیوں کے لحاظ سے سب سے منفرد ہے۔ جبکہ خوش ذائقہ چونسہ آم لذت اور مٹھاس میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اور دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ ان دنوں ملتان میں منعقدہ مینگو فیسٹیول میں مختلف ممالک کے سفیر، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور مینگو گروؤرز کے نمائند وں کے علاوہ شہر یوں کی دلچسپی قابل دید ہے۔
ماہرین طب کے مطابق آم خوبصورتی اور لذیذ ذائقے کے علاوہ طبی لحاظ سے بھی مفید پھل ہے۔ مالٹے کی طرح یہ بھی وٹامن سی کا خزانہ رکھتا ہے، وٹامن سی ہمارا مامون نظام مضبوط کرتا اور ہمیں امراض سے بچاتا ہے۔ آم میں نشاستہ اور روغنی اجزاء حیاتین، فاسفورس، کیلشیم، اور پوٹاشیم اور فولادکثرت سے پائے جاتے ہیں، یہ سبھی معدنیات اپنے اپنے طور پر انسان کو تندرست و توانارکھتے ہیں۔ آم جسم میں خون پیدا کرنے والا پھل ہے، جگر، دل، دماغ، ہڈیوں اور پٹھوں کو سخت گرمی سے محفوظ رکھتا ہے، کھانسی اور دمے کے مریضوں کے لیے بہترین ہے۔ حافظے کو تقویت دیتا اور دماغی کمزوری دور کرتا ہے۔ اس میں شامل پوٹاشیم کی بڑی مقدار بلڈ پریشر کنٹرول کرتی ہے۔ گردے کی پتھری سے حفاظت کے لیے بھی اس کا استعمال نہایت مفید ہے۔ جبکہ کچے آم بھی صحت کے لئے انتہائی مفید ہیں جوکہ اچار اور مربے کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ آم میں موجود وٹامن اے بینائی مضبوط کرتا ہے، نیز یہ جلد کے لیے بھی مفید ہے۔آم میں موجود وٹامن بی، وٹامن ای، وٹامن کے، تھیامین، ربوفلاوین، نائنین اور فولیٹ بھی ملتے ہیں،یہ سبھی انسانی تندرستی کے لیے بہت ضروری ہیں۔ آم کی تاثیر گرم ہے اس لیے آم کھانے کے بعد دودھ کی لسی پینا مناسب ہے۔ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی تمام افراد کو منفرد ذائقے اور نرالی خوشبو والے لذیذ ترین پھل آم کا شدت سے انتظار ہوتا ہے، جوکہ نہ صرف برصغیر پاک و ہند کا قومی پھل ہے بلکہ اسے ”پھلوں کا بادشاہ“ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔یہ شیرینی پھل نبی نوع انسان کے لیے قدرت الٰہی کا اعلیٰ ترین تحفہ ہے، جسے دیکھتے ہی منہ میں رس گھولنے لگتا ہے اور قرآن کریم کی یہ آیت یاد آجاتی ہے جس کا ترجمہ ہے ”کہ اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سے نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘
٭……٭……٭

Share