رخصتی – سیدہ کشف

Afsana

سیدہ کشف فدا حسین

چھوٹے سے گھر میں چاروں اطراف باورچی خانے سے آتی ہوئی دلفریب مہک پھیلی ہوئی تھی۔گھربڑا ہی کتنا تھا دو کمرے اور ایک باورچی خانہ، چھوٹا سا اک صحن اور صحن کے اس پار غسل خانہ۔ سکینہ پتر،تو ایسا کر کہ اپنا لال جوڑا پہن لے؛ لڑکے والوں کی نظریں تجھ سے ہٹنی نہیں چاہء?ے؛ایک کمرے سے اماں صغری کی نصیحت بھری آواز بلند ہوئی. اماں صغری کا بس نہیں چل رہا تھا شاید وہ خود سکینہ کو لال جوڑا پہنانے لگ جاتیں۔ان کا یہ رویہ ان کے مادرانہ جذبات کی بھرپور عکاسی کر رہا تھا، آج ان کی بیٹی سکینہ کو دیکھنے لڑکے والے آ رہے تھے اور ہر ماں کی طرح وہ بھی یہی چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی لڑکے والوں کے دل میں گھر کر جائے۔ ارے صغری،سکینہ کہاں بیٹھی ہو؟ بوا حسب عادت دروازے سے ہی شور مچاتے داخل ہوئیں۔ کیا ہو گیا خالہ، کیوں شور مچا رہی ہو، خیر ہے نا آسماں ہی سر پر اٹھا لیا ہے تم نے تو، اماں صغری باہر آتے ہوئے بولیں۔ اے بیٹا لڑکے والے گلی کی نکڑ پر پہنچ گئے ہیں، سکینہ تو تیار ہے نا اور کھانا بن چکا ہے کہ نہیں۔ بوا نے جلدی جلدی پوچھا۔ ہاں خالہ، سکینہ بھی تیار ہے اور کھانا بھی۔اماں مطمئن انداز میں بولیں دراصل یہ رشتہ بوا کے توسط سے ہی آیا تھا۔روایتی اور چالاک رشتے کروانے والی خواتین سے بالکل مختلف، بوا ایک مخلص عورت تھیں اور شاید کچھ حد تک گاؤں کے خالص ماحول کا اثر تھا کہ لوگوں کے دل حسد و کینہ سے بہت دور تھے۔ اگرچہ کحھ گھروں میں لڑکوں کے بیرون ملک جانے سے رہن سہن اور ترجیحات میں کافی حد تک تبدیلی آچکی تھی۔ دروازہ کھٹکھٹا? جانے پر بوا اور اماں باہر کی جانب لپکیں۔ باہر لڑکے والے کھڑے تھے۔ انہیں بڑے پیار اور عزت کے ساتھ گھر کے اندر لایا گیا۔ لڑکے والوں کی طرف سے ایک مرد اور تین خواتین آئی تھیں جن میں سے دو لڑکیاں شاید لڑکیکی ہہنیں تھیں۔ مہمانوں کو بیٹھک میں بٹھاتے ہی اماں پھر سے سکینہ کا تنقیدی جائزہ لینے آ پہنچیں۔سکینہ کی گندمی سی رنگت کو ہلکے سے میک اپ نے خاصہ پر کشش بنا ڈالا تھا۔ شرمائی، لجائی سی سکینہ کو دیکھتے ہی اماں نے بے ساختہ گلے لگا لیا۔ سکینہ کو تھوڑی دیر بعد آنے کا کہہ کر اماں مہمانوں کے پاس چلی گئیں۔ السلام علیکم کہ کر سکینہ کمرے میں داخل ہوئی تو سب کی نظریں بے ساختہ اس کی طرف اٹھیں۔ مہمان لڑکیاں ایک نظر سکینہ کو دیکھنے کے بعد اس کے ہاتھوں میں موجود ٹرے پر نظریں جما چکی تھیں۔لڑکیوں کی والدہ نے سلام کا جواب دینے کے بعد اسے پاس بٹھا لیا تھا۔ سکینہ تھوڑی دیر کے بعد بہانے سے اٹھ کر کچن میں آگئی۔تھوڑی دیر کے بعدتینوں خواتیں بھی جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔اماں نے دروازے تک انہیں چھوڑنے گئیں انہیں امید ہو چلی تھی کہ شاید لڑکے والوں کو سکینہ پسند آگئی ہے۔ وہ بوا سے بھی کہہ رہی تھیں دیکھ اس بار مجھے لگتا ہے سکینہ دھی کا رشتہ ہو ہی جائے گا ان کے خیال میں سکینہ لڑکے کی ماں کو بہت پسند آئی تھی۔ سکینہ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن اور اماں ابا کی لاڈلی ترین بیٹی تھی۔سکینہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ اس کی پیدائش پر اماں اور ابا نے بہت زیادہ خوشیاں منائیں اور اسے اپنی آنکھوں کا تارا بنائے رکھا۔ لیکن صغری کو بیٹے کی بھی آس تھی۔ بہت سی منتوں اور مرادوں کے بعد اللہ نے صغری کی گود میں رومان اور سبحان کی صورت میں دو پھول عطا کئے۔ دونوں کے آنے کے باوجود سکینہ کی اہمیت میں کوئی کمی نہ آئی۔ بہت زیادہ لاڈ پیار کے باوجود سکینہ کی ذات میں اک ٹھہراؤ سا تھا۔ ابا کی گلی کی نکڑ پر کریانے کی دکان تھی جس سے اتنا آجاتا تھا کہ سفید پوشی کا بھرم برقرار رہ سکے۔ اماں صغری کی عقلمندی کی وجہ سے کبھی کسی کے سامنے ابا کو ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا تھا۔کافی دن گزر چکے تھے مگرنہ ہی بوا کی کوئی خبر آئی نہ ہی لڑکے والوں نے کوئی عندیہ بھجوایا۔ اماں اٹھتے بیٹھتے بوا کو یاد کرتیں۔ دل بہت گبھرایا تو چادر اچھی طرح لپیٹ کے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اے سکینہ،میں بوا کی طرف جا رہی ہوں دروازے کی کنڈی لگا لے بیٹا۔ اماں رومان کا ہاتھ پکڑے سکینہ کو تاکید کرتی ہوئی نکل گئیں۔ سکینہ او سکینہ ادھر تو آ۔ اماں کو جاتے دیکھ کر پروین نے دیوار سے جھانکتے ہوئے سکینہ کو آواز دی۔سکینہ چارپائی پر پاؤں رکھ کے پروین کے مقابل دیوارسیلٹک گئی۔ یہ دیکھ میری منگنی کی انگوٹھی، پروین ہاتھ دکھاتیہوئے بولی۔ ارے واہ یہ تو بہت سوہنی ہے۔ سکینہ جوش سے بولی۔ تمھارے رشتے کا کیا بنا، کب تک منگنی ہو گی؟؟ پروین سکینہ کو دیکھتے ہوئے بولی۔ پتا نہیں بوا کافی دنوں سے نہیں آئیں ابھی اماں گئی ہیں بوا کی طرف۔ سکینہ ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔لگتا ہے اماں آ گئی۔ پھر کل چکر لگاؤں گی، تیری منگنی کی مٹھائی بھی تو کھانی ہے ابھی۔ سکینہ نیچے اترتے ہوئے بولی۔ دروازے پر اماں ہی تھی مگر اماں جاتے ہوئے جتنی پرجوش تھیں اب اتنی ہی نڈھال لگ رہی تھیں۔ سکینہ کو شک گزرا اماں روتی رہی ہیں۔اماں آتے ہی منہ سر لپیٹ کے بستر پر پڑگئیں۔ اماں کی حالت دیکھتے ہوئے سکینہ نے اماں سے بوا کی طرف ہونے والی بات چیت کی بابت نہیں پوچھا۔ وہ جانتی تھی اماں خود ہی بتا دیں گی۔ رات کا جانے کون سا پہر تھا، سکینہ کو پیاس لگی،پانی لینے کے لئے اس نے باورچی خانے کا رخ کیا۔ اماں ابا کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ اپنا نام سن کر سکینہ لاشعوری طور پر ہی اماں کی بات سننے لگی۔ سکینہ کیابا، ہماری بیٹی دس جماعت پاس ہے، سارا گھر اکیلی سنبھال لیتی ہے پھر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ لڑکی کے گن دیکھنے کی بجا? اس کے ماں باپ کی امارت پر نظر رکھی جائے۔ اماں کی بھاری ہوتی آواز بتا رہی تھی وہ کافی زیادہ رو چکی تھیں۔ صغری دل چھوٹا مت کرو اللہ سکینہ کو کوئی بہتر شریک حیات دے گا۔ اللہ پر بھروسہ کرو۔لڑکیوں کی شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ شکر کرو سکینہ کے ساتھ ایسا کحچھ نہیں ہوا۔ ابا نے رسانیت سے سمحایا۔ ابا ایسے ہی تھے صابر اور شاکر۔ سکینہ اماں کے رونے کی وجہ جان چکی تھی۔وہ پانی پئے بغیر ہی واپس پلٹ آئی۔ دل اور دماغ پر اک بوجھ سا آ گرا تھا۔ شاید یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ لوگ انسان سے زیادہ اس کی حثیت کا احترام کرتے ہیں۔ یہاں شاید خوبیوں سے زیادہ انسان کی امارت دیکھی جاتی ہے۔لہذا جب رشتے جوڑے جاتے ہیں تو معیار لڑکی کی باطنی سیرت اور صورت نہیں بلکہ اس کا صاحب حثیت ہونا دیکھا جاتا ہے۔ روز ہی کسی آس میں بیٹھی لڑکی کا رشتہ دیکھنے جانا اور اس کے جذبات اور احساس کو منوں مٹی تلے دفن کرکے رشتے کو رد کرنا شاید آج کل کل لڑکے کی ماوں اور بہنوں کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔رات کو اماں کی باتوں کے اثرات ابھی بھی اس کی ذات سے عیاں ہو رہے تھے۔صبح سے ہی اس کا دل بوجھل سا تھا اور طبعیت اداس۔ بوا صبح سے ہی آئی ہوئی تھیں اماں نے پھر “رشتہ ڈھونڈ” مہم کا آغاز کرلیا تھا۔ ابا کی باتوں کا اثر تھا کہ اماں کل والی بدمزگی کو فراموش کر چکی تھیں یا شائد بیٹیوں کی ماؤں کے دل خدا نے بنائے ہی مضبوط ہوتے ہیں۔ سکینہ کہاں ہو؟؟؟ حسب عادت پروین دروازے سے ہی چلاتے گھر میں داخل ہوئی تھی۔ سکینہ کمرے میں لیٹی گزشتہ شب کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی کہ پروین سیدھا اندر ہی چلی آئی۔ سکینہ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی اور گلے ملنے کے لئے آگے بڑھی مگر پروین منہ موڑے کھڑی رہی کیا ہوا؟ اس طرح منہ بنا کے کیوں کھڑی ہو۔سکینہ اسے زبردستی ساتھ لپٹا کے بولی۔بس رہنے دو یہ دکھاوا۔ رشتہ دیکھنے والے دیکھ کر چلے گئے مگر تم نے بتایا تک نہیں۔ کہ کیا جواب آیا لڑکے والوں کی طرف سے؟؟ پروین ناراضی سے بولی۔ یار کچھ بتانے کو ہوتا تو بتاتی نا۔مثبت جواب آتا تو سب سے پہلے تمھیں ہی بتاتی نا۔ سکینہ دھیرے سے بولی کیا مطلب؟ ارے کوئی مطلب نہیں بس لڑکے کی بہنوں کوغریب گھر کی بھابھی نہیں چاہئیے اور ان کا بھی کیا قصور بھئی بہترین کی خواہش تو سب کو ہوتی ہے نا۔ بظاہر لاپرواہ انداز میں بات کرتے آخر میں سکینہ کی آواز میں نمی سی اتر آئی۔ سکینہ تو پریشان مت ہو۔ اچھا ہوا ان لوگوں کا گھٹیا پن ابھی سے سامنے آگیا۔ پروین سکینہ کو ساتھ لگا کیبولی، اب روتی رہو گی یا چائے پانی کا بھی پوچھو گی۔ اب تو میں ویسے بھی مہمان ہی ہوں تمارے پاس کچھ دنوں کی۔ پتہ ہے نا تجھے میری شادی ہو رہی ہے۔ پروین نے سکینہ سے تفہمی انداز میں پوچھا۔ ہاں یار مجھے پتہ نہیں ہوگا تو کسے ہوگا۔؟؟

ویسے تم قسمت والی ہو۔ گاوں میں جارہی ہو۔ اب تو برس ہا برس ہو گئے گاوں دیکھے ہوئے سکینہ نے اداسی سے کہا تو پرویں نے بات ٹالنے کے لئے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔ جی ہاں اگلے چاندکی دس کو میں جا رہی ہوں کچھ دن کی مہماں ہوں تمھارے پاس۔ پروین ہنستے ہوئے بولی۔ بہت بہت مبارک ہو اب تو تم واقعی مہمان ہو بیٹھو میں چائے لاتی ہوں سکینہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی
پروین کی شادی کے حوالیسے سکینہ بہت پر جوش تھی۔ آخر پروین بچپن سے اس کی ساتھی تھی۔ آج پروین کی مہندی تھی۔ سکینہ صبح سے ہی اس کے گھر پہنچ چکی تھی۔ دونوں کی زیادہ تر سہیلیاں مشترک تھیں۔ آدھیوں سے زیادہ بیاہ کر اپنے اپنے گھروں کی ہو چکی تھیں مگر آج پروین کے بلانے پر سب وہاں موجود تھیں۔سکینہ تمھاری بھی کہیں بات طے ہوئی یا ابھی بابل کے آنگن ہی بیٹھنا ہے۔ اس وقت سب پروین کو گھیرے بیٹھی تھیں جب انعم سکینہ کو دیکھ کر پوچھ بیٹھی۔ ارے نہیں خالہ کی نظر میں ہیں اک دو رشتے لڑکے والوں سے ملتے ہی بات پکی کر دیں گے سکینہ کی۔ پروین نے جلدی سے بات سنبھال لی تھی۔ سکینہ کو لگا جیسے سب اس کو ترس بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوں وہ چپ چاپ باہر نکل آئی۔ ہر لڑکی کی طرح اپنی شادی کے حوالے سے اس نے بہت زیادہ نہ سہی مگر چند خواب ضرور سجا رکھے تھے اب اس کے باپ کی غربت ان خواہشات کی راہ میں آڑے آ رہی تھی اس کے سنگ کھیلنے والی لڑکیاں کب کی پیا دیس سدھار گئی تھیں۔ پروین کے بھائی کے سعودیہ جانے کے بعد جب گھر میں پیسہ آنیلگا توساتھ ہی اس کے لئے رشتے بھی آنے لگے۔پھرکیا تھا چٹ منگنی اور پٹ بیاہ ہو گیا۔ مگر سکینہ کے بھائی ابھی اس قابل نہیں ہو? تھے اور ابا کی صحت اور عمر ان کو زیادہ مشقت کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ نہ جانے اس کے ہاتھ میں شادی کی لکیر تھی بھی یا نہیں۔ اس نے بے اختیار اپنی ہتھیلی کو دیکھتے ہوئے سوچا؛ کوئی بوجھ سا دل پرآن گرا تھا۔شادی کی ساری تقریبات میں وہ بجھے ہوئے دل سے صرف پروین کی خاطر شریک ہوئی تھی۔وہ حاسد نہیں تھی بس حالات نے اس پر اداسی اور یاسیت کا اک خول چڑھا دیا تھا۔شادی سے فارغ ہو کر اس نے حقیقی معنوں میں سکھ کا سانس لیا اب کم از کم کوئی گھر آ کر تو نہ?ں پوچھتا کہ اس کی شادی کب ہو گی؟ آج صبح سویرے ہی بوا آ پہنچی تھیں وہ جانتی تھی بوا کے چکر کس سلسلے میں لگ رہے ہیں۔لڑکا کلرک ہے دو بہنیں ابھی چھوٹی ہیں۔ بڑی بہن کی شادی ہو چکی ہے۔ اماں سکینہ کو بتا رہی تھیں اور وہ سر جھکا? خاموشی سے سن رہی تھی اللہ کرے وہ لالچی نہ ہوں اور تو عزت سے اپنے گھر کی ہو جائے۔اماں دعائیہ انداز میں بولی تو اس نے بھی زیر لب آمین کہابس بہن اللہ کا دیا سب کحھ ہے ہمارے پاس۔ نوید کا دفتر تھوڑا دور ہے تو ذرا آنے جانے کامسئلہ ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل ہوتی تو یہ مسئلہ بھی نہ رہتا۔ نوید کی اماں نے اماں صغری کے تاثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔جی بہن ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ بچے کی پکی نوکری ہے موٹر سائیکل بھی آ ہی جائے گی۔ صغری سادگی سے بولیں۔ ہاں جی میں تو نوید سے کہہ رہی تھی موٹر سائیکل تو بہو ہی لے آئے گی۔ ارے بہن ایک ہی تو بیٹا ہے ہمارا اور پھر ہم کون سا گاڑی مانگ رہے ہیں۔ بھء اتنا تو حق بنتا ہے نا ہمارا۔ انہوں نے اماں صغری کی طرف یوں دیکھا جیسے ان کی طرف سے تائید چاہ رہی ہوں۔ اماں بے چاری پھٹی نگاہوں سے بس انہیں دیکھے جا رہی تھیں۔ ان کی فرمائشوں کی لسٹ ابا کو سنا کراماں بیبسی سے ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھیں اور پریشان تو ابا بھی بہت تھے کہ اتنے پیسوں کا انتظام کیسے ہو سکے گا۔ تم پریشان مت ہو صغری میں اپنے دوستوں سے بات کروں گا امید ہے اتنے پیسوں کا انتظام ہو جائے گا۔ ابا دھیرے سے بولے۔ سکینہ اپنی چارپائی پر لیٹی تمام گفتگو سن رہی تھی اور وہ جانتی تھی ابا اتنے پیسوں کا انتظام تو کر لیں گے مگر اصل مسئلہ پیسے واپس کرنے کا تھا۔ ابا کی قلیل آمدن میں مہینہ مشکل سے گزرتا تھا پھر موٹر سائیکل کیلئے اگر ادھار پیسے لئے بھی جاتے تو واپس کرنے کا بندوبست کیسے کیا جاتا؟؟ فی الحال سکینہ کی سمحھ میں کوئی بھی حل نہیں آ رہا تھا۔اب تو پروین بھی نہیں تھی جس سے وہ اپنا دکھ کہہ سکتی۔ اماں ابا نے تنگدستی کے باوجود اسے بارہویں تک تعلیم دلوائی تھی۔ وہ کالج جانے والی، پورے گاؤں کی واحد لڑکی تھی۔ ابا کا کہنا تھا کہ لڑکی کو تعلیم دلاو یہی اس کا جہیز ہوتا ہے اور یہی اس کا زیور بھی ہے؛ مگر ابا کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ آج کل لوگ تعلیم نہیں دیکھتے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ بہو میکے سے کیا لے کر آئی ہے۔ نکاح جیسے مذ ہبی فریضے کو جہیز کے لئے کی جانے والی ڈیمانڈز نے مشکل بنا دیا ہے۔ اماں کو فکر تھی کہ بیٹی کی عمر بڑھ گئی تو وہ گھر کی دہلیز پر بیٹھی رہ جائے گی اور ابا تو ایک رات میں بوڑھے ہو گئے تھے۔ گھر میں عجیب سوگواریت کا راج تھا۔ سکینہ جانتی تھی کہ ابا قرضے تلے دب کر اس کا بیاہ کروا بھی دیتے تو اس بات کی کیا گارنٹی تھی کہ آئندہ وہ لوگ کوئی اور مطالبہ نہ کرتے؛ بیٹی کا باپ ہونے کی یہ سزاتھی کہ پہلے ابا اس کا گھر بسانے کے لئے جتن کرتے اور پھر گھر بچانے کے لئے۔ دو دن بعد اس کی شادی تھی۔ پروین ہفتہ پہلے ہی آئی ہوئی تھی۔ابا کہہ رہے تھے کل شام کو وہ قرضہ لے لیں گے۔شادی کا گھر تھا۔ روز ڈھولک بج رہی تھی۔محلے اور رشتے دار لڑکیاں موجود تھیں۔ اگلی صبح اماں نے سکینہ کو اٹھانے کے لئے آوازیں دیں تو کوئی جواب نہیں آیا۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے اندر آکر دیکھا تو سکینہ بے سدھ لیٹی ہوئی تھی۔ اس کی سانسیں روٹھ چکی تھیں۔ سکینہ، میری سکینہ، ہائے میری بیچاری بیٹی کوئی دیکھے تو کسیے اوندھے منہ لیٹی پڑی ہے؛ اماں کی آہ وبکاہ نے ہر دل کو رلا دیا تھا۔ خط سرہانے پڑا تھا جس میں لکھا تھا کہ: ” اس نے ابا کو قرضے سے بچا لیا تھا اور اب اماں کو بھی اسکی رخصتی کے لئے پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں تھی وہ کہ رہی تھی جس معاشرے میں نکاح مشکل ہو جب کہ مرنا آسان تو انسان مرنے کو ترجیح دیتا ہے۔” سکینہ نیبہت سی نیند کی گولیاں کھا کر خود کشی کر لی تھی۔ جس معاشرے میں نکاح مہنگا ہو جائے وہاں حرام موت سستی ہو جاتی ہے پھر یا تو کبھی مجبور باپ کو کسی ٹرین تلے آنا پڑتا ہے؛ کبھی بیٹیوں کو مجبور باپ کو مشکل سے بچانے کے لئے مرنا پڑتا ہے۔ جہیز کے مارے شاید یہ کبھی سمجھ نہ پاتے جو بات ایک بیٹی نے سمجھ لی تھی۔

Share