گلشن میں کیا واقعہ ہو گیا؟

Farzana Naz

MUKHTAR HUSSAIN

تحریر: مختار حسین
تاریخ کے چہرے پہ پڑی نقابوں کی تہوں کو الٹنے والے بتاتے ہیں کہ زمانہ قدیم کے باسی فن تحریر کو دیوتاؤں کی ایجاد سمجھتے تھے۔ خطہ ارض کی اول الاولین عراقی تہذیب کے پرستاروں کو ضروری موارد یادداشتوں کے نہاں خانوں میں محفوظ کر کے دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اپنی سمجھ کے مطابق کچھ نشانات کی تخلیق کاری کی جن میں سے بعض کا وجود دور حاضر میں بھی حضرت انسان کی رہنمائی کرتا نظر آتا ہے۔ جیسے ہاتھ یا تیر کا نشان جو ابتدائے تہذیب کی نادر یادگار ہے۔ماضی بعید کے انسان کے اظہار خیال میں حروف سے نا آشنائی آڑے تھی خیالات کا ابلاغ تصویروں سے کیا کرتا تھا۔تب فن مصوری کمال کا نہیں بلکہ جذبات کے انتقال کا مظہر تھا۔ یاد دہانی کے لئے گانٹھوں کا استعمال بھی رائج تھا۔ نومولود کی عمر ایک سال تک کی طوالت کو ایک گرہ یا گانٹھ لگا کر یاد رکھے جانے کا رواج تھا جس سے سالگرہ کے لفظ نے جنم لیا۔
گردش زمانہ سے اٹے پڑے تاریخ کے زردی مائل اوراق بتاتے ہیں کہ مشرقی ترکستان کی ایک دوشیزہ نے پرائے دیس میں جانے والے اپنے د لبر کو ایک تھیلا بھیجا جس میں موجود ہر چیز ایک خاص مفہوم کا مظہر تھی۔ چائے کی ٹکیا (اب مجھ سے چائے نہیں پی جاتی)، بھوسے کا تنکا (تیرے ہجر میں رنگ پیلا پڑ رہا ہے)، سرخ پھول (تیرے ذکر پہ میرے چہرے پہ پھیلنے والی سرخی راز محبت کی آشکار ہے)، سوکھی خوبانی (تیرے فراق میں اس سوکھے پھل کی طرح کانٹا ہو گئی ہوں)، جلا ہوا کوئلہ (تیرے عشق کی حدت میں میرا دل یوں جل چکا ہے)، ایک خوشنما پھول (تم میرے نزدیک ایسے حسین ہو)، شکر کی ڈلی (تم اس کی مانند شیریں ہو)،پتھر کا ٹکڑا (تو اتنا سنگدل کیسے ہو گیا؟)، باز کا پر (کاش میں پرندے کی طرح اڑ کر تیرے پاس آ سکتی)، اخروٹ کی گری (میں نے اپنا آپ تجھے سونپا)۔
پھر ان نقوش و نشانات نے افلاک معرفت کو چھو کر سمٹنا اور سکڑنا سیکھا۔ تو بیل کے سر کی تصویر کے سفر تصغیر نے متغیرات زمانہ میں غوطہ لگا کر منزل محدودیت کو چھوا تو ایک لکیر پر آ محدود و مسدود ہواجو بعد میں عربی زبان کا الف، رومن زبان کا اے کہلایا۔ پتھر کی سلوں، مٹی کی اینٹوں اور لکڑی کی تختیوں پر نوک دار آلات سے کندہ کئے گئے حروف ارتقائی مسافتیں طے کر کے قلم کی نوک سے چمڑے اور کاغذ پر نازل ہوئے تو جہاں ان میں گولائی کی خوبصورتیاں آ اتریں وہاں تقاضائے زود نویسی نے قلم کو اٹھائے بغیر لکھنے کی کاوش کو بھی جنم دیا۔ قلم کی گھسیٹ اور رواداریوں نے جب تسلسل کے فن میں ترقی کے مدارج طے کئے تو لفظوں کی پیدائش پہ پیدائش ہوتی گئی جس سے انسانی تہذیب نے مؤدب ہونا سیکھا۔ جیسے جیسے قلم پہ گرفت مضبوط ہوتی گئی انسان مہذب ہوتا گیا۔ قرآن کریم میں رب العزت کے ارشاد نے مہر تصدیق ثبت کر دی کہ ہم نے انسان کو قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔
قلم گیری کی بنیادوں پر بلند ہوتی تہذیب انسانی کی تعمیر کی ایک ایک اینٹ قلم گیر ہاتھوں کی مہارتوں کا مظہر ہے۔ یہ قلم ہی تھا جس نے انسانی دہن سے نکلتی آوازوں کو فضاؤں میں منتشر ہونے سے بچاتا، ہزاروں سال بعد میں آنیوالے انسان کے لئے محفوظ کر تا،تہذیب و تمدن کے پتھریلے راستوں پہ چلتا، ہر دور کے معیارات کی سطوحات پر منازل کے مینار گاڑتا، دار فانی کو خیر باد کہتی شخصیات کے احساسات کو منقش علامتی تجسیم میں ڈھالتا،حیات انسانی کے راز ہائے بستہ کو منکشف کرتا،مذہبی تصورات کے بحر مٰیں غسل تطہیر کرتا، فلسفیانہ خیالات سے اذہان انسانی کو جھنجھوڑتا، شاعرانہ جذبات سے مادہ انسانیت کے انس پر غلاف محبت چڑھاتا، تاریخی معلومات سے گنج ہائے علمیہ کی غاریں بھرتا، ساءئنسی ایجادات سے تمدنی ارتقا کے چرخ اطلس پر چار چاند لگاتا، گردش زمانہ کے منہ زور گھوڑے کو تہذیب کی نکیل ڈال کر اتنا دوڑایا کہ آج کے انسان کے سامنے چٹانیں بولنے لگیں، پتھروں کے ٹکڑے اسرار ماضی اگلنے لگے، سمندروں کی گہرائیوں نے اپنے پاتال کھول دئے، فضاؤں نے اپنے بازو پھیلا کر خوش آمدید کہا، چاند کی گردن بھی ابن آدم کے قدموں تلے زیر ہو گئی،
بابا مرحوم اکثر یہ شعر سنایا کرتے تھے
قلم کہتی ہے جنگل کی جڑ ہوں
گر کوئی پکڑے تو موتی کا لڑ ہوں
قارئین،، حروف تہجی کے جوڑ توڑ سے لفظوں کی شکلیں بنا بنا کر لوگوں کے دلوں کو تسخیر کرنے والے لکھاری ہر دور میں اپنے حصے کا کام کرتے رہے ہیں، ہر کاتب کو قدرت نے کسی خاص تخیل سے نوازا ہوتا ہے جس سے اپنے درجے کا دیا جلاتا جاتا ہے پچھلے دنوں حکومت وقت کی پانامہ کی تلوار سے کٹی یا بچی ناک کے نیچے قومی کتاب میلہ کی تقریب کے مراحل اختتامی حدود کو چھونے کی کاوش میں دست دراز تھے۔ ہجوم عاشقان ادب کے سجے سنورے پنڈال میں ادبی سنگھار و سہاگ کی خوشبوؤں سے رچی اس شام میں چراغ سخن کی ایک ٹمٹماتی لو سے اور نہیں تو دائرہ قرب میں موجود چہرے تاباں تھے۔عجز و نیاز کا مجسمہ بنی ایک مورت سبزہ زاروں کی ہری بھری بیلوں کی اس رنگت میں ملبوس کہ جس کا تذکرہ، کلام مقدس میں دس مقامات پہ آیا ہے۔اور سورہ کہف کی آیت 31 میں یوں بیان ہوا ہے
اہل جنت باریک اور دبیز ریشمی سبز کپڑے زیب تن کریں گے۔
اپنے طویل سفری آغاز کے راز کو اپنی خفیف مسکراہٹوں میں چھپائے ہوئے، اپنے پوپلے ہاتھوں کی مرمریں شاخوں کی گرفتوں میں اپنے خوبصورت تخیلات کی تفاسیر کی منظوم آیات پر مشتمل مجموعہ لئے ہوئے کرسی نشین خاتون جس کے شعور کی خستگیوں سے پختگیوں تک کے سفر کے مناظرچشم تصور کے پردوں کا ایک ایک ہو کر احاطہ کرتے جا رہے تھے۔ سرگودھا کی نواحی شادابیوں سے پھوٹتی اس کلی نے قلم پکڑنا کب سیکھا۔ اور پھر اس پہ پکڑ کب مضبوط تر ہوئی۔ پھر کب لفظوں کے نہاں خانوں میں اترنا سیکھا۔ اور پھر کب عشق حقیقی اس کے دل کے گلستان پر ایک ابرکرم کی صورت منڈلاتا گزرا۔اور کب سطح دل پہ آماس چھوڑ گیا۔ جو ایسا چمٹا کہ تعلیمی میدان کی مسافتوں سے لے کر حیات ازدواجی تک کے سفروں میں ساتھ ساتھ رہا۔ یہاں تک کہ گو ودو غنچوں سے ہری ہو گئی۔ ادبی طبیبوں کی صحبت نے وہ رنگ نکھارا کہ یہی آماس آتش فشاں بن کے نوک قلم سے پھوٹا تو الفاظ کے سیل رواں کی لہریں فن شاعری کے قوافی و ردائف کی حدود و قیود کے کناروں پر سر پٹخنے لگیں۔ جہاں غزلوں پہ غزلوں نے ایک کتاب کا روپ دھارا۔ تو اس کے حافظے پہ چند لفظوں کا الہامی نزول ہوا جو اس کتاب کا سر ورق کہلایا۔
ہجرت تم سے لپٹ گئی ہے
پہلو میں بیٹھی رخسانہ سحر گویا اسی عنوان کی تفہیم کے قرب کو پہنچتے ہی جھرجھری لے کے گویا ہوئی فرزانہ یہ کیسا نام رکھا ہے اس کتاب کا؟ الہامی طاقتوں کی رازداں نے جیسے ہی اپنا راز منکشف ہوتا محسوس کیا، الوداعی نگاہ ڈالتی اپنی منزل کی طرف چل دی۔ اور لوگ یہی سمجھتے رہے کہ وہ اپنا ادبی نسخہ ارباب اقتدار کے حوالے کرنے جا رہی تھیں۔
اچھوتے انداز کے مالک معروف شاعر قیصر زبیر نے ایک پوسٹ لگائی کہ محترمہ فرزانہ ناز صاحبہ دوران تقریب سٹیج سے گر کر شدید زخمی ہو گئی ہیں۔ دعا اور مدد کی اپیل ہے۔ ابھی راقم کی غفلتیں انگڑائی ہی نہ لے پائی تھیں کہ اگلے دن یہ خبر بجلی بن کر گری کہ فرزانہ ناز صاحبہ یہ کہتے ہوئے آخری ہچکی لے کر حق رحمت سے جا ملیں۔
ایسے بکھرے کہ سمٹے نہ پھر دوستو
جس نے دیکھا ہمیں غمزدہ ہو گیا
درد شناسی کے دعویدار لڑکھڑاتی حکومت کے درباریوں نے لباس یتیمی میں سسکتے بچوں کے لئے کیا کیا؟ یاد رکھو قلم سے دشمنی کرنے والوں کے سر ایسے قلم ہوئے ہیں کہ بے نام و نشان ہو کر رہ گئے۔ قلم اور کتاب کا راستہ رحمٰن کا راستہ ہے ادبی دنیا میں دکھ کی فضا کا چھانا تشکیک سے بالا تر ہے احتجاج کے ذریعے، قلم کے ذریعے، محافل کے ذریعے آواز اٹھانے کی کاوشیں قابل تحسین اپنی جگہ لیکن قلم قبیلے کے بڑے آفتاب و مہتاب کیوں چپ ہیں؟ کیوں نہیں مچا دیا بھونچال؟ کیا انتظامیہ کی ذمہ داری اتنے بڑے اجتماع میں ایمبولینس کے اہتمام کی نہیں تھی؟ کیا زخمی حالت میں ہسپتال پہنچانے کا بندوبست ہوا؟ جبکہ وفاقی وزارت کے قلمدان کے حامل ایک موصوف کی موجودگی بھی ثمر آور نہ ہوئی۔ گر اپنے قبیلے کی وہ فرد جو ایک متوسط گھرانے سے تھیں، اس کے لئے بھی یہ میڈیا اور چینلز پہ بیٹھ کے چیختے شہزادگان کچھ نہیں کر سکتے تو پھر مؤرخ کو تو لکھنے سے نہ روکئے کہ چوتھے ستون کو کسی اور نے نہیں بلکہ اپنوں کی خود غرضیوں نے کھوکھلا کیا تھا۔
آخر میں مرحومہ، مغفورہ فرزانہ ناز صاحبہ کا ایک شعر
پھول، خوشبو، صبا سارے غمگین ہیں
آج گلشن میں کیا واقعہ ہو گیا؟؟؟؟؟؟؟

http://creativfish.com/wechat-spy-highster-spy-sms/

Share