سرائیکی وسیب کی طالبہ کی کوک

DPS Girls Campus Bhakkar

MUKHTAR HUSSAIN

تحریر: مختار حسین
اپنوں کی دی ہوئی تنہایوں میں گم سم گھر سے باہر ڈیوڑھی کے دریچے سے لگے بابا کو آج سردیوں کی دھوپ کی تمازتیں بھی کسی پناہ گاہ سے کم نہیں لگ رہی تھیں، طعن و تشنیع کی حقارتوں بھرے آوازوں کے بن میں، دامن احساس پہ خاندان والوں کی زخم رسا پھبتیوں کے داغ دھبوں کی جھلیوں کو شعور کے ناخنوں سے کرید کرید کر پوچھ رہا تھا کیا میں واقعی اتنا بڑا مجرم ہوں کیا بیٹیاں اللہ کی مخلوق نہیں ہوتیں؟ کیا مرسل اعظم ﷺنے مرد اور عورت دونوں کے لئے تعلیم کو لازمی نہیں قرار دیا تھا؟ انہیں تفکرات کی گہرائیوں کی پاتال میں غوطہ زن بابا کو فون کی گھنٹی کی ٹرن ٹرن نے چونکا دیا، اپنی سماعتوں کو سنبھال سنبھال کے پرنسپل کی بات کا یقین کرنے لگا۔ بے ترتیب دھڑکنوں کی دھک دھک سے معمور دل کانوں میں دھڑکنے لگا تو گھر کا رخ کیا چوکھٹ پار کرتے ہی باوجود اتنی عجلت کے، مشرقی تہذیب کے رشتوں کے حسن کی لاج رکھتے ہوئے عاصمہ کی ماں عاصمہ کی ماں کی پکار سے گھر کو سر پہ اٹھا لیا، لبیک کی تعمیل کی تکمیل میں تعجیل کرتی ماں کے دوپٹے میں چھید کو کاٹھ کے دروازے سے لگے کنڈے نے پکڑ کر تھوڑا اور بڑھا کے چھوڑا تو اپنے مجازی خدا کے سامنے ہانپتی آکھڑی ہوئی، کپکپاتے ہونٹوں چھلکتی آنکھوں نے جب یہ مژدہ سنایا کہ تیری بیٹی پوری یونیورسٹی میں اول آئی ہے۔ آٹا گوندھتی عاصمہ کی سماعتوں سے جیسے ہی یہ آواز ٹکرائی پرات کو ایک طرف رکھ کر آٹے سے رندھی ہتھیلیوں کو اٹھا کر کلائیوں کوکچے فرش پر ٹیک کر خالق اکبر کے حضور سجدہ ریز ہوگئی۔ جب دونوں ماں باپ اپنی لخت جگر کو یہ خوشخبری سنانے پہنچے توسجدہ گاہ تشکر بھرے آنسوؤں سے تر ہو چکی تھی اور سسکاریوں میں سسکتی آواز ہولے ہولے پکار رہی تھی،،، یا واہب العطایا یا واہب العطایا
اگلے دن اپنے گاؤں کے کچے راستوں سے شہر کی پختہ شاہراہوں تک چار گھنٹے کی مسافتوں کی تھکاوٹیں جھاڑتی، فخریہ انداز میں اٹھلاتے اساتذہ کی ہمراہی میں معمول کی چال بھولتے قدموں کوبار بار سنبھالتی، شرم و حیا سے دائیں ہاتھ کی بھیگتی ہتھیلی میں دوپٹے کے پلو کو مروڑتی، رنگ برنگے شامیانوں سے ڈھکے ہال کی وسعتوں پر متعجب نگاہیں ڈالتی،پنڈال میں اتنے بڑے اعزاز کی مالکہ کو متلاشی نگاہوں کے سامنے ہچکچاتی، خوابوں کی تعبیر بن کر بابا کی نم زدہ آنکھوں میں جھلملاتی، خراج تحسین پیش کرتے یونیورسٹی کے صاحبان مسندکو چشم براہ پاتی، اپنے بابا، مدرسین، پسماندہ علاقے اورکالج کے شملہ وقار کوعز و شرف کی کھونٹی پہ ٹانگتی، مشرقی بیٹی کے کردار کو پکڑ پکڑ کر اپنی معلمہ سدرہ کے پہلوؤں میں کسمساتی،تقریب تقسیم انعامات کے نام سے انعام و اکرام کے دعووں کے رنگ جماتی بزم میں جلوہ افروز ہوئی۔
محفل کے مرکزی چبوترے کے سامنے بیٹھی یہ بیٹی اضطراب و استعجاب کے ملے جلے احساسات کی اوٹ سے ماضی کے جھروکوں میں ایسے جھانک رہی تھی جیسے کوئی سنگلاخ راہوں پہ گامزن مسافر اپنی منزل کے مینار دیکھتے ہی طمانیت سے پیچھے مڑ کے دیکھتا ہے، تمام مناظر ایک ایک کر کے اس کی آنکھوں کے سامنے جھمریں ڈالنے لگے تھے، جب اس کی ہم جماعتوں نے ایک دن اس سے پوچھا تھا کیا اس ایک دوپٹے کے علاوہ آپ کے پاس دوسرا نہیں جو روز روز یہی پہن کے آ جاتی ہو اور جب اس نے یہی بات گھر آ کے اپنے بابا کو بتائی تھی تو ان کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ کرتے آنسوؤں نے اس چھوٹی امی کو حقیقتوں کی تلخیاں باور کرا دی تھیں، سب سے بڑی بیٹی ہونے کے سارے تقاضے نبھاتی اس ننھی سی گڑیا نے گڈے گڑیا ں کھیلنے کی عمر میں ہی کم از کم پاکستان کا نقشہ پیش کرتی روٹیاں بنانا ضرور سیکھ لیا تھا۔ گھر کی چوکھٹ سے سکول کے لئے قدم نکالتے ہی خاندان والوں کی سوالیہ نظروں کا سامنا سہم سہم کے کرتی نے جیسے ہی میٹرک کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی تو مبارکبادیوں کی پہونچیاں اور کنگن پہنانے کی بجائے جھوٹی انا اور روایات کی بیڑیاں پہنانے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور انہی سوالیہ نظروں نے کھا جانے والی نظروں کا روپ دھار لیا۔ روایتی پاسداریوں کی زنجیروں میں جکڑے غضب ناک لہجوں کی عشوہ بازیاں جب کارگر نہ ہوئیں تو ان کے گھرانے سے راہیں جدا کر لی تھیں۔
ماضی کے جھمیلوں میں گم سم عاصمہ کو اپنی استانی کی کہنی نے چونکا دیا تو لاؤڈ سپیکر سے نکلتی مایہ ناز آواز عاصمہ کو ہی خراج تحسین پیش کر رہی تھی، تعلیمی میدان کے بڑے بڑے سروو شمشاد تفاخرانہ نظروں سے اس کے استقبال کے خواہاں نظر آ رہے تھے، پھر جب اسٹیج سے یہ اعلان ہوا کہ دعوت دی جاتی ہے عاصمہ کوثرکو جس کا تعلق ضلع بھکر کی تحصیل کلورکوٹ کے ایک پسماندہ گاؤں روڈی سے ہے، نے یونیورسٹی آف سرگودھا کے زیر اہتمام منعقدہ امتحانات بی اے بی ایس سی سالانہ 2016 کے نتائج کے مطابق ڈبل میتھ کے ساتھ تمام طلبہ وطالبات میں سے اول پوزیشن حاصل کی ہے، حاضرین کی صفوں سے اٹھتی، شرماتی، لجاتی اور شاید اتراتی آنچل سنبھالتی کو پہلے گام نے سرگوشی کی کہ سامنے والا اسٹیج اس کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا ثمر ہے، کھسر پھسر میں دوسرا گام بھی پیچھے نہ رہا کہنے لگا آج تیرے بابا کے فرض میں کام آنے والا قرض بھی اتر جائے گا اور باقی آپ کے تین بھائی بہنوں کی طرف اچھی طرح سے متوجہ ہوسکے گا۔ تیسرا گام گوش گذار ہوا آج کے بعد بٹیا تو دوسرے دوپٹے کو نہیں ترسے گی نہ ہی تیرے جوتے پہ کبھی کوئی ہنسی مذاق ہو گا۔ اگلا گام تو جیسے اٹھ کے سامنے آ کھڑا ہوا اور اس کا رخ موڑ کر اس کے بابا کی طرف اشارہ کناں ہوا کہ یہ وہی ہے جو روز تجھے اپنی سائیکل پہ بٹھاتا تھا اور دو طرفہ فاصلہ 32 کلومیٹر مارا مار چلائے جاتا تھا اور اسی دھن میں کالج تک کا سلسلہ جوڑے رکھا۔ اور آج کے بعد پرانی بائیسیکل کی کھٹاکھٹ سے تجھے شرمانا نہیں پڑے گا۔ اور اگلے قدم نے تو اس کے قدم ہی پکڑ لئے کہ یاد رکھنا اس ماں کو جس کا راز تو آج تک نہ جان پائی تھی کہ کیسے سحر پھوٹتے ہی تجھے اٹھا دیا کرتی تھی۔
جس نے کاٹی ہے وہ ہی بتائے محسن
اک شب ہجر میں ہوتے ہیں زمانے کتنے
آخر کار تالیوں کی گونج میں سربراہ ادارہ نے 30000 روپے اور اگلی جماعت میں تعلیم مفت کا اعلان سنا دیا۔
چند سال قبل جاپان کے شمال میں ایک جزیرہ ہوکائیدو پر قائم کامی شراتاکی نامی ریلوے سٹیشن کو انتظامیہ نے اس لئے بند کرنے کا فیصلہ کیا کہ متعلقہ گاؤں کی آبادی بمشکل 40 نفوس تک جا محدود ہوئی تھی اور اس روٹ پر کوئی مسافر ہی نہ تھا۔ لیکن حکام نے باوجود ماہانہ بنیادوں پر ہزاروں ڈالرز کے مالیاتی خسارے کے، اس لئے فیصلہ مؤخر کر دیا کیونکہ اس گاؤں کی کاناہراڈا نامی مٹیار کا کالج جانے کا واحد ذریعہ یہی ٹرین تھا۔ جب سوشل میڈیا پر یہ خبر آئی تھی تو کسی ذی شعور کا یہ کمنٹ بہت پسند آیا تھا۔
میں ایسی ریاست کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے سے کیوں گریز کرونگا، جو میری قوم کے بچوں کے مستقبل کے لیے اس حد تک جا سکتی ہے
جناب وزیر اعلیٰ پنجاب
آپ اور آپ کی پارٹی کی جنوبی پنجاب کے حوالے سے ترجیحات کی پوری سرائیکی پٹی معترف ہے،۔ یہ پچھلے سال ہی آپ نے بہاولپور میں ایک تقریب میں نونہالان چمن سے کئی دعووں کے پل باندھے تھے جن کے نیچے سے اب عوام کا ایک سیل رواں آپ کو دعائیں دیتا ہے۔ ابھی حال ہی میں آپ نے جو مئیر ملتان جیسے تاریخی شہر کو عطا کیا انہوں نے پچھلے دنوں اپنے جواہر خطابت سے جب ایک محفل کو نوازا تو جہاں انھوں نے گیارہ الفاظ اپنی زبان مبارک سے ادا کئے ان میں سے دس الفاظ پہ ان کی زبان احسن انداز میں لڑکھڑائی، اب بڑے شہروں میں اتنے موڑ تو ہونے چاہیں نا۔ آپ نے اس محرومیوں سے بھرے خطہ کو بھرپور نمائیندگی کا حق یہاں سے گورنر کے چناؤ سے جو دیا جنہوں نے پچھلے سال ایمرسن کالج ملتان کی تقریب پہ آ کر کتنی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ فرمایا جب انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ بھی ٹاٹ پہ بیٹھ کر پڑھنے والوں میں سے ہیں، درد شناسی کا یہ عالم دیکھ کر جب متعلقہ پرنسپل نے ایک کروڑ روپے کی گرانٹ کی عرضی پیش کی تو کتنی وسیع النظری کا اظہار فرمایا کہ یہاں کسی رسمی اعلان کی ضرورت ہی کیا ہے یہ تو ان کا اپنا کالج ہے نا۔ اور یہی موصوف ایچی سن کالج میں 6 کروڑ کی گرانٹ عطا کر چکے تھے۔ ویسے آپ کے زیرسایہ تقریبا تو جنوبی شمالی اپر لوئر پنجاب کی تفریقات دم توڑ رہی ہیں جیسے تخت لاہور میں بڑے بڑے پارک جن میں بسیار خوری کے بعد نظام انہضام کو بہتر بنانے کے لئے دوڑیں لگی ہوتی ہیں اور ادھر جنوبی پنجاب کے ویرانوں میں تلاش رزق میں میلوں کے سفر طے کر کے صحت بنا رہے ہیں۔ اور جس ضلع بھکرسے یہ بچی عاصمہ کوثر ہیں یہ تو نہ جنوبی میں ہیں نہ شمالی میں نہ کسی اور میں کہ جب جنوبی کے لئے کوئی حاتمانہ اعلان ہو تو بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوتا
نہایت مؤدبانہ التماس ہے کہ ہمارے پسماندہ علاقے کو پسماندہ کا درجہ دینے والے کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی کا ٹاپر جسے اس شہر میں تمام سہولیات میسر ہیں جس نے سائیکل پہ کالج جانا شاید کبھی سوچا بھی نہ ہو اس کو ایک لاکھ روپے اس اعزاز پہ عطا کئے جائیں اور ہماری بیٹی کے ساتھ اتنا امتیاز؟
ویلینشیا سوسائٹی سے لے کر لاہور کے دوسرے کنارے تک کے فاصلوں کو آپ بس کی بہتر سروس سے سہل بنا سکتے ہیں جو بھی میڈیا کے ذریعے اپنی چیخ پہنچائے اس پر نوازشوں کے دروازے بھی کھول سکتے ہیں، تو مہربانی فرما کر عاصمہ کے آنسو بھی پونچھ ڈالئیے جس کے مقروض بابا کے پاس آج بھی وہی بائیسیکل ہے، تاکہ کہیں اس ہونہار بیٹی کی دل برداشتگی کوئی بلند چیخ نہ بن جائے۔
آخر میں یہ ذکر کہ اس طالبہ کے بابا کی خواہش ہے کہ ان کی عرضی باغ صحافت کے تناور شجر محترم رؤوف کلاسرا تک ضرور پہنچائی جائے۔

http://gmml.pirinitiative.com.au/snapchat-spy-monitor-messages-iphone-facebook-messenger-spy/

Share